حیات سیدنا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بچپن سے قبول اسلام تک

0



حیات سیدنا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ 

بچپن سے قبول اسلام تک

 (۱)بچپن اور تربیت: عرب کے رواج کے مطابق حضرت خالد کی پرورش بھی مکہ مکرمہ سے باہر دیہاتی ماحول میں ہوئی۔ آپ نے ایسے ماحول میں ہوش سنبھالا جہاں شمشیر آرائی، جنگی سرگرمیاں آخر وقت تک سامنے ہوتی تھیں۔ نیزہ بازی، شہسواری، شمشیر زنی، جنگی دائو پیچ سے ہر وقت پالا پڑتا تھا۔

(۲)شباب: آپ بچپن ہی سے نہایت پھرتیلے، نڈر اور صاحب تدبیر تھے، جو ان ہوکر آپ کی شجاعت کا رنگ نکھرا اور آپ قریش کے منتخب جوانوں میں شمار ہونے لگے۔

(۳) آپ اشراف مکہ کے اہم ستون تھے۔ آپ کے اسلام قبول کرنےسے قریش مکہ کے اسلام مخالف محاذ میں بڑی دراڑیں پڑگئیں۔ 

(۴) آپ  نے شاہانہ انداز میں پرورش پائی۔ اکثر اوقات امراء کے لاڈلے بیٹوں کی طرح گھوڑے کی سواری، گھڑ دوڑ اور دیگر دلچسپ مشغلوں میں لگے رہتے تھے۔ 

(۵) آپ ایسے باپ کے بیٹے تھے جسے قریش کی طرف سے فوجی کیمپ کا انتظام اور فوجوں کی سپہ سالاری کی خدمت سونپی گئی تھی اور خود آپ  کو بھی اپنے والد کی زندگی میں یہ منصب حاصل ہوگیا تھا۔

(۶) آپ کے والد کی مالداری کا یہ حال تھا کہ ایک سال بنو ہاشم مل کر غلاف کعبہ چڑھاتے اور ایک سال آپ ؄ کے والد ولید تنہا غلاف چڑھاتے تھے۔

(۷) میمونہ بنت حارث زوجۂ رسول اکرمﷺ آپ کی خالہ تھیں، گویا سیدنا خالد بن ولید کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کی ایک خالہ امہات المؤمنین میں سے تھیں۔ 

(۸) آپ فنون حرب میں لاجواب تھے۔ پورے عرب میں کوئی ان کے پائے کا سپہ سالار اور تلوار کا دھنی نہیں تھا۔ شجاعت وقوت اور وجاہت وعزت میں اپنی مثال آپ تھے۔ 

(۹) عہد کا پاس، پاک بازی، فرض شناسی، بالغ نظری، موقع شناسی، جان سے زیادہ اپنے مشن سے محبت، ناقابل شکست اعتماد اور بے نظیر شجاعت، یہ تمام خوبیاں آپ کے کردار میں بدرجہ اتم نظر آتی ہیں۔

 (۱۰) قریش کے ایک مشہور قبیلے بنی مخزوم کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ میں قبہ اور اعنہ کا کام تھا یعنی فوجوں کے خیمے لگواتے اور سپہ سالاری کا منصب بھی آپ کو سونپا گیا۔

(۱۱) آپ ظاہری وباطنی حسن وجمال اور جاہ وجلال کے پیکر، شجاعت، بہادری اور جرأت میں بے مثال، شہسواری، نیزہ بازی اور شمشیر زنی میں ماہر ایک بے خوف اور زندہ دل انسان تھے۔ 

(۱۲) آپ کے قبول اسلام کے بارے میںمختلف روایتیں ہیں، سب سے مستند روایت مسند احمد بن حنبل کی ہے، اس کی رو سے ان کے اسلام لانے کا زمانہ ۶ اور ۸ ہجری کے درمیان ہے۔ 

(۱۳) حضرت خالد بن ولید کے قبولِ اسلام سے قبل بھی حضور اکرمﷺ ان کو بہت پسند فرماتے تھے۔ جب آپﷺ کے سامنے خالد بن ولید کی تعریف کی جاتی تو آپﷺ فرماتے: ’’یہ خصوصیات جس شخص میں ہوںگی، وہ ضرور اسلام قبول کرے گا۔‘‘




No comments:

Post a Comment

براہِ کرم! غلط یا حوصلہ شکن کمنٹ نہ کریں… آپ کا کمنٹ آپ کی ذات اور اخلاق کی پہچان ہے… اس لیے جلا بھنا یا ادب و آداب سے گرا ہوا کمنٹ آپ کے شایان شان ہرگز نہیں۔ شکریہ

Powered by Blogger.

Advertise Here

© 2020 تمام جملہ حقوق بحق | Tahseenonline | محفوظ ہیں

Theme byNoble Knowledge